نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دشتِ طلب

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    1,840
    شکریہ
    629
    633 پیغامات میں 659 اظہار تشکر

    دشتِ طلب





    درِ طلسمِ صدا کھلے تو اُسے پُکاریں
    کہ اُس کے ہاتھوں میں خواہشوں کا قبول رد ہے
    اُسے دکھائیں کہ کتنے بادل
    ہمارے کھیتوں سے بے تعلق نکل گئے ہیں
    اُسے بتائیں کہ کتنی کلیاں
    کشاد ہونے کی آرزو میں بکھر گئی ہیں
    سنائیں اُس کو وہ لفظ جن کے
    حروف بے صوت ہو گئے ہیں
    رُلائیں اُس کو اُن آنسوؤں پر
    جو خُشک آنکھو ں میں کھو گئے ہیں
    گلو گرفتہ اُداس لمحے ، اُجاڑ صورت بکھرتے موسم
    وہ بختِ گریاں جو سو گئے ہیں
    درِ طلسم صدا کھُلا تو عجب ہے منظر
    چہار جانب ہجومِ خلقت ہے مثلِ لشکر
    اُسی کی جانب رواں دواں ہیں
    برہنہ پا و شکستہ رنگ و غبار بر سر
    سفید سائے، سیاہ پیکر
    لبوں پہ خواہش کے سبز جنگل، نظر سمندر
    صدائیں اتنی ہیں ماند پڑتا ہے شورِ محشر
    اُسے سُنائیں تو کیا سُنائیں
    کہ اپنی اپنی زباں میں سارے ہمارا قصہ سُنا رہے ہیں
    وہ جس کے ہاتھوں میں خواہشوں کا قبول رد تھا
    ہر اک کی آواز سُن رہا ہے
    درِ طلسمِ صدا کھُلا ہے
    کسے پُکاریں؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-11-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,187
    شکریہ
    2,149
    1,247 پیغامات میں 1,621 اظہار تشکر

    جواب: دشتِ طلب

    بہت ہی خوب ، شاندار
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (06-11-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University