نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: عشق میں ہارے ہوئے جسم

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    339
    شکریہ
    153
    88 پیغامات میں 105 اظہار تشکر

    عشق میں ہارے ہوئے جسم



    تم نے دیکھی ہے کبھی
    عشق کے مست قلندر کی دھمال
    درد کی لے میں پٹختا ہوا سر اور تڑپتا ہوا تن من
    پیر پتھر پہ بھی پڑ جائیں تو دھول اٹھنے لگے
    اور کسی دھیان میں لپٹا ہوا یہ ہجر زدہ جسم
    رقص کرتا ہوا گر جائے کہیں
    تو زمیں درد کی شدت سے تڑپنے لگ جائے
    ہجر کی لمبی مسافت کا رِدھم گھوڑوں کی ٹاپوں میں گندھا ہے
    رقص دراصل ریاضت ہے کسی ایسے سفر کی
    جسے وہ کر نہیں پایا
    تم نے دیکھے ہیں کبھی
    شہر کے وسط میں گھڑیال کے روندے ہوئے پل
    جن میں چاہت کے ہزاروں قصے
    عشق کے سبز اجالے میں کئی زرد بدن
    اپنے ہونے کی سزا کاٹ رہے ہیں
    تم نے دیکھے نہیں شاید
    عشق میں ہارے ہوئے جسم

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر

    جواب: عشق میں ہارے ہوئے جسم

    واہ ندیم بھابھہ ،
    بہت شکریہ ، زبردست نظم شئیر کی آپ نے
    بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو
    تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں ۔


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی نظم یہ ہے ۔


    جسم ایسے جو کبھی پوریں بھی کٹ جائیں

    توپھر خوں کی جگہ اشک نکلتے ہیں وہاں

    حسرتیں دل میں چھپائے ہوئے کچھ لوگ یہاں

    دم بدم بہتی ہوئی آنکھوں سے لکھتے ہیں کہانی

    یہ نئی بات نہیں

    واقعہ ایک ہے کردار بدل جاتے ہیں

    ایک تیشہ ہے مگر وار بدل جاتے ہیں
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University