نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: شام

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    758
    شکریہ
    171
    123 پیغامات میں 141 اظہار تشکر

    شام


    اس طرح ہے کہ ہر اِک پیڑ کوئی مندر ہے
    کوئی اُجڑا ہوا، بے نُور پُرانا مندر
    ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے
    چاک ہر دم، ہر اک در کا دمِ آخر تک
    آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے
    جسم پر راکھ ملے، ماتھے پر سیندور ملے
    سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے
    اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
    جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
    دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
    اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہو گا
    اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہو گا
    آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹُوٹے
    چُپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھُوٹے
    دے کوئی سنکھ دہائی، کوئی پایل بولے
    کوئی بت جاگے، کوئی سانولی گھونگھٹ کھولے



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-12-2014),جاذبہ (06-12-2014)

  3. #2
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 574 اظہار تشکر

    جواب: شام

    جاذبہ


    اردومنظرفورم

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University