نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دل اک خواب نگر ہے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,399
    شکریہ
    640
    700 پیغامات میں 726 اظہار تشکر

    دل اک خواب نگر ہے


    دل اک خواب نگر ہے جس میں لمحہ لمحہ
    اُس کے سپنے بند آنکھوں میں نئے دریچے وا کرتے ہیں
    ہر چہرے میں اُس کا چہرہ رکھ دیتے ہیں
    میرے اُس کے بیچ ہزاروں دیواریں ہیں
    رسموں اور رواجوں کی
    بیگانوں کی قاتل نظروں اور اپنوں کی باتوں کی
    اُس کی بے پروائی کی اور اپنی پاگل سوچوں کی
    کالی دُشمن راہوں کی
    میں اس ظالم اندھی اور منہ زور فضا میں اک بے مایہ ذرہ تھا
    جو اپنے سے لاکھوں میں گُم تھا
    اُس کے خواب نے میری آنکھیں روشن کی ہیں
    خاموشی میں جادو ہے تو پھر وہ جادو گر ہے
    اُس کی چُپ نے میرے دل کو نطق دیا ہے
    میں قطرہ تھا اُس کی ذات سمندر ہے
    اُس کی محبت نے مجھ کو تخلیق کیا ہے
    ارمانوں کی بانجھ ہوائیں
    آنکھوں کے گُمنام جزیروں میں چلتی ہیں
    اور خواہش کے خُشک درختوں کی شاخوں میں
    سائیں سائیں کرتی ہیں
    موسم آنکھیں پھیر کے دل کے درد نگر سے چل دیتے ہیں
    بادل ویرانے پہ گھر کر بن برسے چل دیتے ہیں
    اُس کے بنا آواز کی کرنیں۔ آنکھیں۔ پھول، ستارے، پتھر
    دل اک شہرِ سنگ ہے جس میں گلیاں ،باغ، منارے، پتھر
    خواہش جادو کی بستی ہے، مُڑ کے دیکھو، سارے پتھر
    دریاؤں کے دھارے پتھر
    وہ آئے تو پتھر کو آواز ملے
    شہرِ سنگ کے دروازوں کو وا کرنے کا راز ملے
    دل اک خواب نگر ہے اس کے خوابوں کو آغاز ملے
    ۔۔۔۔۔



  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: دل اک خواب نگر ہے


    اور خواہش کے خُشک درختوں کی شاخوں میں
    سائیں سائیں کرتی ہیں
    موسم آنکھیں پھیر کے دل کے درد نگر سے چل دیتے ہیں
    بادل ویرانے پہ گھر کر بن برسے چل دیتے ہیں
    بہت ہی خؤب ،
    شاندار شاعری پیش کرنے پر شکریہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University