نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: وقت کے دریا میں آؤ

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    3,629
    شکریہ
    650
    709 پیغامات میں 735 اظہار تشکر

    وقت کے دریا میں آؤ





    وقت کے دریا میں آؤ ایک دن
    یوں بہا دیں جا چکے لمحوں کی راکھ
    جیسے ان سے کوئی بھی رشتہ نہ تھا
    جیسے ہم اس آگ سے گزرے نہ تھے

    آئنے یادوں کے جھلمل منظروں کی اوٹ سے
    ہم کو دیکھیں اور ششدر سے رہیں
    کیسے چہرے ہیں جو اپنے عکس سے ملتے نہیں
    آتے جاتے موسموں کی آنکھ میں حیرت سی ہو
    کیسے غنچے ہیں جو فصلِ گُل میں بھی کھلتے نہیں

    وقت کے صحرا میں آؤ ایک دن
    یوں چُرا کر ڈوبتے تاروں سے آنکھ
    اپنے اپنے راستوں کی گرد میں روپوش ہوں
    جیسے ہم نے منزلوں کے خواب تک دیکھے نہ تھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-14-2014),جاذبہ (06-14-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    جواب: وقت کے دریا میں آؤ

    شاندار ، بہت ہی اچھا شاعر ۔۔۔۔۔ امجد اسلام امجد ،
    بڑھیا کلام پیش کرنے پر شکریہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (06-14-2014),جاذبہ (06-14-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    3,629
    شکریہ
    650
    709 پیغامات میں 735 اظہار تشکر

    جواب: وقت کے دریا میں آؤ

    شکریہ۔۔۔۔۔۔

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (06-14-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University