نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دوسری جُدائی

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,424
    شکریہ
    640
    700 پیغامات میں 726 اظہار تشکر

    دوسری جُدائی

    تری خوشبو
    ہوا کے سبز دامن میں بسی
    تو سوچ نے آنکھوں میں خواہش کے دریچے کھول کر دل سے کہا
    "خدا شاہد
    کہ ہم نے آج تک بچھڑے ہوؤں کو پھر کبھی ملتے نہیں دیکھا
    مگر حیرت سماعت پر کہ یہ آہٹ اُسی کی ہے
    جسے تُم نے گنوایا تھا
    جُدائی کی ہواجس کے مہکتے مہکتے جسم کی خوشبو سے خالی تھی
    جسے کھونے کا لمحہ ہر نئے موسم کا حاصل تھا
    ستارے جس کی صورت دیکھنے ہر شب نکلتے تھے
    نظارے ہاتھ ملتے تھے "
    ۔۲۔
    یکایک شہر کی گلیوں میں اُس کے نام کی خوشبو اُڑی میں نے
    رفاقت کے پُرانے نرم لہجے میں اُسے آواز دی
    اُس نے مجھے دیکھا
    مگر اُس کی نگاہوں میں فقط حیرت ہویدا تھی
    کہ جیسے پوچھتا ہو اس تخاطب کا سبب کیا ہے
    وہی چہرہ ،وہی آنکھیں، وہی خوش وضع پیکرتھا
    کہ جیسے موسموں کا گُھن اُسے چھونے سے قاصر ہو
    میں بچے کی طرح ششدر کھڑا تھا
    اُس نے بالوں کو جھٹک کر ڈوبتے سورج کو گھورا
    راستے کو آنکھ میں تولا،مجھے دیکھا
    "سفر لمبا ہے" وہ بولا
    میری منزل تمھاری رہگزر سے سینکڑوں فرسنگ آگے ہے
    خدا حافظ

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-16-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: دوسری جُدائی

    بہت خوب
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (06-16-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University