نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ

    تاریخ : 18 جون 2014
    دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ
    تحریر: سید انور محمود
    آٹھ جون 2014ء اتوارکی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہ حکومت کی ناقص سیکوریٹی انتظام اورایک اندیشے کے مطابق انتظامیہ میں سے چند بکے ہوئے ارکان کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ایئرپورٹ پر حملہ ہواتوپھر سے دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے، جن میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ کب ختم ہوگا۔ آٹھ جون 2014ء تک ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں 52ہزار409 افراد نشانہ بنے جبکہ سیکورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکار شہید ہوئے، 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے، 4ہزار932 بم دھماکے ہوئے، دہشتگردی کے نتیجے میں شہید ہونیوالوں میں پاک فوج کے سینئر افسران میں لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ، میجر جنرل امیر فیصل علوی، اور میجر جنرل ثناء اللہ نیازی شامل ہیں، جبکہ اہم فوجی تنصیاب جن پر حملے کیے گئے ان میں جی ایچ کیو، منہاس ایئر بیس، مہران نیول بیس اور پاکستان آرڈیننس فیکٹری شامل ہیں۔ آخر کاراتوار 15 جون کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ ’العضب ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی تلوار کا نام ہے، اسی مناسبت سے پاک فوج نے آپریشن کا نام "ضرب عضب" رکھا ہے جس کا مطلب "ضرب کاری" یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔آپریشن کو ایسا مقدس نام دینے پر پاک فوج کو بہت بہت مبارکباد کے ساتھ دلی دعا ہے کہ یہ آپریشن کامیاب ہو اور اللہ تعالی معصوم شہریوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

    ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم ٹی وی پر آکر قوم سے خطاب کرتے اور مذاکرات کی ناکامیابی کے اسباب پر روشنی ڈالتے اور آپریشن شروع کرنے کا اعلان کرتے۔ مگر قوم کو آئی ایس پی آر کے پريس ريليز کے زریعے آپریشن شروع ہونے کی اطلاع ملی، آئی ایس پی آر کے پريس ريليز کےمطابق شمالی وزيرستان ميں حکومتی ہدايت پر باقاعدہ فوجی آپريشن شروع کر ديا گيا ہے۔ اگلے روز وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم مذاکرات کررہے تھے جبکہ دوسری جانب تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ہماری نیک نیتی پر مبنی پیش رفت کو اسی جذبے کے ساتھ نہیں لیا گیا، کراچی حملے کے بعد مشاورت سے آپریشن کا فیصلہ کیا، دہشت گردی نے معیشت کو گہرا زخم لگایا، پاکستان دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ دکھ کی بات ہے مساجد‘ امام بارگاہیں‘ عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں‘ کھیل کے میدان ویران ہیں‘ بازارو شہر خوف کے سائے میں ہیں۔ دہشت گردی ہماری معیشت کو 103 ارب ڈالر کا زخم لگا چکی ہے۔ ہم کسی قیمت پر ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ قومی اسمبلی میں یہ سب باتیں کرنے والے نواز شریف اور اُنکے وزرا گذشتہ ایک سال اور خاصکر 23 جنوری سے مذاکرات کے نام پر پوری قوم کو دھوکا دے رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف جس وقت مذکراتی کمیٹی کا اعلان کررہے تھے اُس وقت بھی کراچی کی فضائیں یکے بعد دیگرے ہونیوالے دھماکوں سے گونج رہی تھیں، ان دھماکوں میں دو رینجرز اہلکاروں سمیت چار بے گناہ انسانوں کا خون بہایا گیا تھا۔ آٹھ جون کو ایک مرتبہ پھر کراچی میں خون بہایا گیا اور ملکی معیشت کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی گی۔ نواز شریف جو فی الوقت آپریشن کے لیے تیار نہیں تھے کراچی ایئرپورٹ پرحملے کے بعد اُنہیں آپریشن کی منظوری دینا پڑی یا افواج پاکستان کے آپریشن کے مشورہ کو قبول کرنا پڑا اسکے علاوہ اُنکے پاس اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا کیونکہ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

    طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کے ڈرامے میں وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے علاوہ تین مذہبی سیاسی جماعتیں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جمعیت علمائے اسلام (س) اور ان جماعتوں کے سربراہ پہلےسابق امیرجماعت سید منور حسن اور اب موجودہ امیرسراج الحق، مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق بھی برابر کے ذمیدار ہیں۔ طالبان کی کسی بھی قتل و غارت گری کے بعد قطع نظر اس کے مرنے والوں سے سراج الحق، مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق ہمدردی کریں یہ طالبان کی صفایاں دینے لگتے ہیں، اُن کے ساتھ ہی کچھ صحافی جن میں خاصکرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان صحافت کی آڑ میں طالبان کی ہمدردی میں پیش پیش رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اسکے سربراہ عمران خان بھی طالبان کے ہمدرد ہیں، طالبان کی کسی بھی دہشت گردی پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اُسکے بعدقوم کوڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، حادثہ کی جگہ پر ہی کہہ دیتے ہیں آپریشن کا کوئی فاہدہ نہیں ہوگا، نو سال سے آپریشن ہورہا ہے ہم نے کیا کرلیا۔ فوجی آپریشن کے بعد انہوں نے آپریشن کی حمایت تو کی مگر مذاکرات کا راگ الاپنا نہیں بھولے۔ جماعت اسلامی کو تو اب بھی دہشت گردوں کےخلاف ہونے والے آپریشن پر اعتراض ہے، مولانا فضل الرحمان کا تو سب کو پتہ ہے کہ جس طرف فاہدہ نظر آئے اُس طرف ہی مولانا ہوتے ہیں، طالبان کے نام نہاد باپ اور مذاکرتی کمیٹی کےایک کردار مولانا سمیع الحق جومذاکرات کے نام پر روز پریس کانفرنس کررہے تھے اور جس کے زریعے وہ مسلسل قوم سے جھوٹ بولتے رہے اب بھی حکومت سے مذاکرات کا ڈرامہ جاری رکھنے پر اسرار کررہے ہیں۔

    دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع ہوتے ہی اُنکے ہمدردانصار عباسی نے ایک کالم لکھا جسکا عنوان "اچھے طالبان ہوں یا برے، آپریشن میں سب کو نشانہ بنایا جائیگا" ہے، اس کالم کے شروع میں ہی انصار عباسی نے لکھا ہے "اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ اچھے اور برے طالبان میں تفریق کیے بغیر اور فوجی حکام کے ساتھ معاہدے کرنے والے طالبان سمیت آپریشن ضربِ عضب میں تمام جنگجوئوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ باخبر ذرائع کے مطابق صرف ان ہی جنگجوئوں اور گروپس کو چھوڑا جائے گا جو ہتھیار ڈال دیں گے"، اس کالم کو روزنامہ جنگ نے ایک اہم خبر کے طور پر صفحہ اول پر شایع کیا ہے جبکہ یہ خبر نہیں انصار عباسی کے ذہن کی پیداوار ہے، جنگ انتظامیہ اور انصار عباسی اب بھی فوج کے خلاف لگے ہوئے ہیں۔ افواج پاکستان کو یہ لازمی سمجھنا ہوگا کہ " طالبان کے لفظی معنی کچھ بھی ہوں مگر ہمارئے ملک میں طالبان عام طور پردہشت گردوں کو کہا جاتا ہے، طالبان کے 45سے زائد گروہ ہیں اور ہر گروہ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی قتل و غارت گری کی کسی بڑی مہم کا حصہ رہ چکا ہے اور اس کا اقرار بھی کرچکا ہے، ان گروہ میں سے کوئی عام انسانوں کا قتل عام کررہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف ہے، یہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگیٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتیوں اور دوسرے جرائم میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صرف نام کے انسان ہیں خصلتیں سب کی درندوں جیسی ہیں، لہذا ان میں یہ احمقانہ تمیز کرنا کہ اچھے کون ہیں اور برئے کون ہیں اسکی ضرورت ہی نہیں ہےکیونکہ کسی درندئے سے انسانیت کی امید نہیں کی جاسکتی۔ پاکستان میں طالبان کی دو قسمیں ضرور موجود ہیں ایک وہ ہیں جو قتل و غارت گری اور دوسرئے جرائم کرتے ہیں اور دوسرئے وہ ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں اُن کی حمایت کرتے ہیں۔ افواج پاکستان کو دونوں قسم کے طالبان کا آپریشن کرنا ضروری ہے۔ آیئے ملکر دعا کریں کہ افواج پاکستان کا یہ آپریشن طالبان اور اُنکے ہمنوا دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ ہو۔
    سید انور محمود

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2011
    پيغامات
    527
    شکریہ
    31
    49 پیغامات میں 71 اظہار تشکر

    جواب: دہشت گردوں کے خلاف آخری معرکہ

    (ضرب ِ عضب )
    نہتے لوگوں کے اب خون کا حساب تو دو
    ہماری فوج سے لڑنا کوئی مذاق نہیں
    تمھیں بھی جانیں بچانے کا تجربہ ہے مگر
    عضب کی ضرب سے بچنا کوئی مذاق نہیں
    (فاخرہ بتول نقوی)

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے ایم-ایم کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-18-2014),سید انور محمود (06-18-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University