نتائج کی نمائش 1 تا: 1 از: 1

موضوع: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا

  1. #1
    رکنِ خاص saba کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    345
    شکریہ
    96
    195 پیغامات میں 273 اظہار تشکر

    Smile حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا

    حضرت ام المومینین امی عائشه الصدیقه رضی الله تعالی عنها

    * نام و نسب*
    عائشہ نام، صدیقہ اور حمیرا لقب، ام عبداللہ کنیت، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ہیں۔ ماں کا نام زینب تھا، ام رومان کنیت تھی اور قبیلہ غنم بن مالک سے تھیں۔

    حضرت عائشہ ؓ بعثت کے بار سال بعد شوال کے مہینہ میں پیدا ہوئیں، صدیق اکبر کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا، جہاں خورشید اسلام کی شعاعی ںسب سے پہلے پرتوفگن ہوئیں، اس بنا پر حضرت عائشہ ؓ اسلام کی ان برگزیدہ شخصیتوں میں ہیں، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز نہیں سنی، خود حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا انکو مسلمان پایا،(بخاری ج1ص252)۔
    حضرت عائشہ کو وائل کی بیوی نے دودھ پلایا، وائل کی کنیت ابو الفقیعس تھی، وائل کے بھائی افلح، حضرت عائشہ کےرضاعی چچا کبھی کبھی ان سےملنے آیا کرتے تھے، اور رسول اللہ
    کی اجازت سے وہ انکے سامنے آتی تھیں،(ایضاً ص320) رضاعی بھائی بھی کبھی کبھی ملنے آیاکرتا تھا،(ایضاًص361)۔

    * نکاح*

    تمام ازواجِ مطہرات ؓ ن میں یہ شرف صرف حضرت عائشہ ؓ کوحاصل ہے کہ وہ آنحضرت
    کی کنواری بیوی تھیں، آنحضرت سے پہلے وہ جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب ہوئی تھیں۔
    لیکن جب حضرت خدیجہ ؓ کے انتقال کے بعد خولہ ؓ بنت حکیمہ نے آنحضرت
    سے اجازت لیکر ام رومان سے کہا، اورانہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے ذکر کیا، تو چونکہ یہ ایک قسم کی وعدہ خلافی تھی، بولےکہ جبیر بن مطعم سے وعدہ کر چکا ہوں، لیکن مطعم نے خود اس بنا پر انکار کر دیا کہ اگر حضرت عائشہ ؓ انکے گھر گئیں تو تو گھر میں اسلام کا قدم آ جائے گا۔
    بحرحال حضرت ابوبکر ؓ نے خولہ کے ذریعہ سے آنحضرت
    سے عقد کر دیا، پانچ سو درہم مہر قرار پایا، یہ سن دس نبوی کا اواقعہ ہے، اس وقت حضرت عائشہ ؓ چھ برس کی تھیں،یہ نکاح اسلام کی سادگی کی حقیقی تصویر تھا، عطیہ ؓ اسکا واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں۔
    کہ حضرت عائشہ ؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں، انکی انّا آئی اور انکو لے گئی، حضرت ابوبکر ؓ نے آ پکا نکاح پڑھا دیا۔
    حضرت عائشہ ؓ خود کہتی ہیں کہ جب میرا نکاح ہوا تو مجھکوکچھ خبر تک نہ ہوئی جب میری والدہ نے باہر نکلنے میں روک ٹوک شروع کی، تب میں سمجھی کہ میرا نکاح ہو گیا، اسکے بعد میری بعد میری والدہ نے مجھے سمجھا بھی دیا(طبقات ابن سعدج8ص40 )۔
    آپ اس امت کی خواتین میں سب سے بڑی فقیہ تھیں۔ آخر میں کچھ احادیث بی بی صاحبہ کی فضلیت میں بیان کرونگی۔
    ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اوران سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےایک دن فرمایا: اے عائش یہ جبرائیل علیہ السلام تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں، میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیزملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی۔ (آپ کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہوسلم سے تھی)۔



    ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا(امام بخاری رحمہ اللہ نے) اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی،انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں مرہ نے اور انہیں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئےلیکن عورتوں میں مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدانہیں ہوئی، اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔

    ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حمادنے کہا، ہم سے ہشام نے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے کہا کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھیجنے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کاانتظار کیا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری سوکنیں سب امسلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے کہا: اللہ کی قسم لوگ جان بوجھ کر اپنےتحفے اس دن بھیجتے ہیں جس دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری ہوتی ہے، ہم بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اپنے لیے فائدہ چاہتی ہیں، اس لیے تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ لوگوں کو فرما دیں کہ میں جس بھی بیوی کے پاس رہوں جسکی بھی باری ہو اسی گھر میں تحفے بھیج دیا کرو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کی، آپ نے کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا جب بھی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار عرض کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھ کو نہ ستاو۔ اللہ کی قسم!تم میں سے کسی بیوی کے لحاف میں (جو میں اوڑھتا ہوں سوتے وقت) مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہاں (عائشہ کا مقام یہ ہے) ان کے لحاف میں وحی نازل ہوتی ہے۔
    کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری
    آخری ادارت منجانب saba : 07-06-2014 وقت 10:00 PM

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے saba کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (07-06-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University