نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: حضرت ادریس علیہ اسلام

  1. #1
    رکنِ خاص saba کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    345
    شکریہ
    96
    195 پیغامات میں 273 اظہار تشکر

    حضرت ادریس علیہ اسلام




    حضرت ادریس علیہ السلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

    وجہ نام ادریس کی یہ ہے کہ پڑھانے کی کثرت کے سبب سےآپکا لقب ادریس ہوا۔ علم نجوم آپکے معجزات میں سے ہے وہ زمین پر عبادت کرتے ان کوفرشتے سب آسمان پر لے جاتے، اللہ تعالٰی نے فرمایا: واذکر فی الکتب ادریس انہُ کان صدیقا نبیا، ترجمہ: اور یاد کر کتاب میں ادریسؑ کو کہ وہ سچا نبی ہے۔
    وہ ہر روز پیرہن سیتے تھے ہر دم سینے میں تسبیح پڑھتےتھے اور کسی سے سلائی کی اجرت نہ لیتے تھے۔
    ایک دن وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر بیٹھے تھے کہ ملک الموت بہ آرزوۓ تمام امر الٰہی سے آدمی کی صورت بن کر مہمان کے طور پر رات کو حضرت ادریس علیہ السلام کے دروازے پر آ پہنچے۔ آنحضرتؑ صائم الدہر تھے جب شام ہوتی افطار کے وقت آپکا کھانا بہشت سے آتا جس قدر چاہتے کھا لیتے باقی کھانا پھر بہشت میں چلا جاتا۔ اس دن کا کھانا جب آیا تو حضرت ادریس علیہ السلام نے وہ کھانا اس مسافر کو پیش کر دیا لیکن مسافر نے کچھ نہ کھایا اور قدم پر قدم رکھ کر عبادت کرتارہا۔ حضرت ادریس علیہ السلام انکا یہ حال دیکھ کر معتجب ہوۓ کہ یہ کون شخص ہے۔
    اگلے دن حضرت ادریس علیہ السلام نے ان سے کہا کہ اےمسافر تو میرے ساتھ چل کر خدا کی قدرت صحرا میں جا کر دیکھو تب دونوں بزرگ گھر سےمیدان کی طرف نکلے، جاتے جاتے ایک گیہوں کے کھیت میں جا پہنچے حضرت ملک الموت نےکہا کہ چلو چند خوشے گیہوں کے لیکر دونوں کھاتے ہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نےفرمایا کہ عجب ہے رات کو تو نے حلال کھانا نہ کھایا اور اب حرام کھانا چاہتا ہےپھر وہاں سے دونوں بزرگ دوسرے باغ میں پہنچے اور وہاں بھی انگور دیکھ کر حضرت عزرائیلؑ نے کھانے کا قصد کیا حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ تصرف ملک غیرمیں حرام ہے پھر جاتے جاتے ایک بکری دیکھ کر حضرت عزرائیلؑ نے کھانے کا ارادہ کیاپھر حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا کہ بیگانی بکری کو ذبح کر کے کھانا ممنوع ہے

    اسی طرح تین روز تک دونوں باہم گفتگو کرتے رہے جب حضرت ادریس علیہ السلام کو لگا کہ یہ شخص بنی آدم سے معلوم نہیں ہوتا یہ کون شخص ہے،اور فرمایا کہ خدا کے واسطے ظاہر تو کرو کہ تم کون ہو۔ مسافر بولا میں عزرائیلؑ ہوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کیا سب مخلوقات کی جان تم ہی قبض کرتے ہو،انہوں نے کہا کہ ہاں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا تم شائید میری جان قبض کرنے آۓ ہو، انہوں نے کہا نہیں ، میں تو تمہارے ساتھ خوش طبعی کرنے آیا ہوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا کہ تین دن سے تو میرے ساتھ ہے کیا اس عرصے میں بھی تو نےکسی کی جان قبض کی ہے، وہ بولے: قال کلھا بین یدی کانما بیدیک خیر، ترجمہ: کل جان قبض کرنا ہمارے ہاتھ میں ایسا ہے جیسا تمہارے دونوں ہاتھ کے نیچے روٹی رکھی ہوئی ہے یعنی جسکی اجل آتی ہے اللہ پاک کے حکم سے میں ہاتھ بڑھا کر اسکی جان قبض کرلیتا ہوں اور بولا اے حضرت ادریس علیہ السلام میں چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ رشتہ برادری کا کروں۔

    حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تیرے ساتھ رشتہ برادری کا کرون گا کہ تلخی جان کی ایک بارگی تو مجھکو چکھا دے تاکہ مجھے زیادہ خوف اور عبرت ہو اور میں اپنے خالق کی زیادہ عبادت کروں ، ملک الموت نے کہا کہ اللہ کی رضا کے بغیر کسی کی جان قبض نہیں کر سکتا، تب حضرت ادریس علیہ السلام نےخداوند قدوس کی درگاہ میں عرض کی اور پھرجان قبض کرنے کا حکم ہونے پر جان قبض کر لی گئی، پھر ملک الموت نے خدا کی درگاہ میں دعا مانگی اور اللہ پاک نے انکو زندہ کر دیا حضرت ادریس علیہ السلام نے اٹھ کرملک الموت کو اپنی گود میں لے لیا اور دونوں نے آپس میں رشتہ برادری کا لگایا، پھرملک الموت نے ان سے پوچھا اے بھائی جان کنی کی تلخی کیسی تھی وہ بولے جیسے کسی زندہ جانور کی کھال سر سے پاؤں تک ادھیڑی جاتی ہے۔ ملک الموت نے کہا ، اے بھائی قسم ہے رب العالمین کی جیسا کہ میں نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ایسا کسی کے ساتھ نہیں کیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا اے بھائی مجھے دوزخ کے دروازے تک لےچل تاکہ اسکو دیکھ کر خوفِ الٰہی زیادہ ہواور میں زیادہ عبادت اور بندگی کروں۔ تب ملک الموت نے اللہ کے حکم سے انکو دوزخ کے سات طبق دکھاۓ پھر حضرت ادریس علیہالسلام بولے اے بھائی مجھے جنت دیکھنے کی آرزو ہے کہ اسے دیکھ کر خوشی حاصل کروں اور عبادت زیادہ کروں گا۔ پھر ان کو بہشت کے دروازے پر لے گئے اور انہوں نے بہشت کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے پھر کہنے لگے اے بھائی میں جان کنی کی تلخی سہہ چکاہوں اور دوزخ بھی دیکھی اور میرا جگر پیاس کے مارے جل رہا ہے اجازت ہو تو بہشت میں جا کر ایک پیالہ پی لوں، تب اس نے کہا ہاں اگر تم واپس آنے کا وعدہ کرو، شدید پیاس کی وجہ سے حضرت ادریس علیہ السلام نے واپس آنے کا عہد کیا اور بحکمِ الٰہی اپنی نعلین درخت طوبی کے نیچے چھوڑ کر بہشت میں داخل ہو گئے کیونکہ باہر آنے کا عہد کیاتھا اور نعلین کو بھی درخت کے نیچے چھوڑ آۓ تھے ، بہشت سے باہر نکل کر اپنی نعلین کو لیکر بہشت میں جا کر درخت پر جا بیٹھے

    کچھ دیر بعد ملک الموت نے انکو آواز دی کہ اے بھائی تاخیر مت کرو تو جواب میں حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مشفق جبار عالم فرماتا ہے کل نفس ذائقۃ الموت، ترجمہ: ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور اب تومیں جان کنی کا مزا چکھ چکا ہوں اور حق تعالٰی فرماتا ہے ۔ وان منکم الا واردھ،اور نہیں کوئی تم سے جو نہ پہنچے گا اس میں۔ سو میں دوزخ میں بھی پہنچ چکا ہوں اوریہی جلیل جبار فرماتا ہے لا یمسھم فیھا نصب اما ھم منھا بمخرجین، ترجمہ: نہ پہنچےگی انکو وہاں کوئی تکلیف اور نہ انکو کوئی وہاں سے نکالے گا یعنی جو بہشت میں آگیا واپس نہ آوے گا، اے بھائی اب میں ہر گز نہیں آنے کا۔

    درگاہِ باری سے آواز آئی اے عزرائیل تو حضرت ادریس علیہالسلام کو چھوڑ کر چلا جا میں نے انکی تقدیر میں یہی لکھاتھا حضرت ادریس علیہالسلام موت کا مزہ چکھ کر اور دوزخ کو بھی دیکھ کر جنت میں جا رہے تب عزرائیلؑ بولے ان الجنۃ حرام علی الانبیاء حتی یدخل خاتم الانبیاء ، ترجمہ: بہشت حرام ہےابنیاء ہر جب تک کہ خاتم الانبیاء داخل نہ ہوں۔ بہشت میں پھر آواز آئی اے عزرائیل میں بہشت کودریغ نہیں رکھتا ہوں، لہکن اول بہشت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہونگے بعد وہ سب انکی امت، اور قول دوسری یہ ہے کہ طواف کرنے والے سب طواف کرتےرہیں، بہشت میں اور حق تعالٰی نے فرمایا ورفعنہ مکان علیا، ترجمہ: اور اٹھا لیا ہم نے اسکو اونچے مکان پر پس حضرت ادریس علیہ السلام تو بہشت میں چلے گئے اور انکے سب فرزند فراق سے گریہ و زاری میں تھے، ایک روز ابلیس انکے پاس آیا اور کہا تم رویامت کرو، میں تمہارے باپ کی سی ایک صورت بنا دیتا ہوں تم اسکو شب و روز دیکھا کرواور پوجو۔ اس سے تمہارا سب دکھ درد اور غم جاتا رہے گا اور تم سب خوش رہو گے ابلیس لعنتی نے ایک ایسی صورت بنائی کہ انکی شکل میں اور بت میں کوئی فرق نہ تھا سواۓاسکے کہ یہ صورت بات نہ کرتی تھی اور وہ لوگ اس صورت کو پوجا کرتے تھے، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ بت پرستی تمام عالم میں پھیل گئی، مشرق سے مغرب تک یہ رواج جاری رہاکوئی آدمی اللہ تعالٰی کو نہ جانتا تھا۔ علم و عمل ان میں مفقود تھا، بعد میں خداےتعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان پر پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ انکو ہدایت کی راہ بتائیں۔
    واللہ اعلم بالصواب۔

    بحوالہ قصص الانبیاء
    آخری ادارت منجانب saba : 07-09-2014 وقت 01:15 PM

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,190
    شکریہ
    2,172
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: حضرت ادریس علیہ اسلام

    جزاک اللہ ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. #3
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: حضرت ادریس علیہ اسلام

    جزاک اللہ
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  4. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,871
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: حضرت ادریس علیہ اسلام




  5. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    saba (09-23-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University