نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا

  1. #1
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا

    (ممتاز نسیم ، ہندوستان)
    میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا
    سرِ ابتدا سرِ انتہا، تیرا نام دل پہ لکھا ہوا

    یہ چمک دمک تو فریب ہے، مجھے دیکھ گہری نگاہ سے
    ہے لباس میرا سجا ہوا، میرا دل مگر ہے بجھا ہوا

    میری آنکھ تیری تلاش میں، یوں بھٹکتی رہتی ہے رات دن
    جیسے جنگلوں میں ہرن کوئی ہو شکاریوں میں گھِرا ہوا

    تیری دوریاں تیری قربتیں تیرا لمس تیری رفاقتیں
    مجھے اب بھی وجہ سکوں تو ہے، تو ہے دور مجھ سے تو کیا ہوا

    یہ گلے کی بات تو ہے مگر، مجھے اس سے کوئی گلہ نہیں
    جو اُجڑ گیا میرا گھر تو کیا، ہے تمہارا گھر تو بچا ہوا

    میں نسیم خط کو پڑھوں بھی کیا کہ حصار آب ہی آب ہے
    تیرے آنسوؤں سے لکھا ہوا، میرے آنسوؤں سے مٹا ہوا


  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے نگار کا شکریہ ادا کیا:

    saba (07-12-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص saba کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    345
    شکریہ
    96
    195 پیغامات میں 272 اظہار تشکر

    جواب: میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا

    بہت زبردست خان صاحب۔بہترین شاعری شئیر کرنے پر آپ کا شکریہ

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے saba کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (07-12-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: میری زندگی کی کتاب کا، ہے ورق ورق یوں سجا ہوا

    شکریہ محترمہ جیتی رہیں

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University