نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    تاریخ: 22 اگست 2014
    اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں
    تحریر: سید انور محمود
    اسلام آباد دو دھرنوں کی زد میں آیا ہوا ہے، حکومت کی نااہلی اور کیا ہوگی کہ وہ اس مسلئے کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکال سکی ہے۔ عمران خان اور طاہرالقادری شاید آج اسلام آباد میں نہ ہوتےاورنہ ہی نواز شریف کی مرکزی حکومت اور شہباز شریف کی صوبہ پنجاب کی حکومت کے خاتمے کے اعلانات کرتے اگر وزیراعظم کی کرسی پر تیسری بار بیٹھنے والے نوازشریف تلخ تجربات کے بعدحکومت چلانا سیکھ لیتےلیکن وہ تو الٹا اپنی حکوت گرانا خوب سیکھ چکے ہیں اور صرف ڈیڑھ سال سے بھی کم مدت میں ان کی حکومت دو دو دن کے نوٹس پر ختم کرنے کی کوششیں رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہیں،حکومت کی جانب سے ان احتجاج سے نمٹنے کے لیئے گذشتہ دو ماہ میں کچھ نہیں کیا گیا یا یوں کہہ لیں کہ پرواہ ہی نہیں کی۔نواز شریف کی غیر ذمیداری کا یہ حال ہے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے بجائے پندرہ دن عمرہ اور مری کی سیر میں لگادیے، اس درمیان میں دارلحکومت میں آئین کی دفعہ دوسوپینتالیس کے ذریعے فوج کو تعینات کردیا گیا، اگر کچھ کوشش کی جاتی تو عمران خان اور طاہر القادری سے کچھ لو اور کچھ دوکےدرمیانی راستے پر سیاسی معاملات طے ہوجاتے اور یہ جو آج پاکستان کو بدنام کرنے پر عمران خان اور طاہر القادری پیش پیش ہیں اس میں نواز شریف کا حصہ بھی برابر کا ہے۔عمران خان تو الیکشن کے بعد سے ہی یہ مطالبہ کررہے تھے کہ چار سیٹوں کوچیک کرلیا جائےلیکن سعودی بادشاہت کے سائے تلے سات سال سعودی عرب میں گذارنے والے نواز شریف 2013ء کے الیکشن کے بعد ملک کےوزیراعظم کم نام نہاد بادشاہ زیادہ بن گے۔ جس کا واضع ثبوت اُنکی قومی اسمبلی اور سینٹ سے عدم دلچسپی ہے۔ غیر ملکی دوروں کی بھرمار، ہربڑی دہشت گردی کے وقت عام طور پر نواز شریف کسی غیر ملکی دورئے پر ہوتے تھے۔ابھی عمران خان کے مطالبات چل رہے تھےکہ کنیڈا سے طاہر القادری نے اپنے دس نکات اور انقلاب کا نعرہ لگادیا اور 19 جون کو اپنی پاکستان آمد کا اعلان کردیا۔ 17 جون کو پنجاب حکومت ادارہ منہاج القران کے مرکز ماڈل ٹاون لاہور پر چڑ ھ دوڑی، رات ڈیڑھ بجے سے اگلے بارہ تیرہ گھنٹے گھمسان کا رن پڑا اور نتیجہ میں چودہ لاشیں ملیں جن میں دو خواتین بھی تھیں۔ روزانہ صبح ساڑے پانچ بجے اٹھنے والے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے بقول اُنہیں تو پتہ ہی نہیں کہ اتنا بڑا حادثہ ہوگیا، اُنکی یہ بات ناقابل اعتبار ہے۔ پاکستان کے سیاستدان لاشوں کے اوپر سیاست کرتے ہیں یہ لاشوں کے سوداگر ہیں،مرئے بیچارے تقلید کے مارے مریدین۔ فاہدہ کس کا ہوا؟ سیدھا سیدھا طاہرالقادری کا۔ چودہ لاشیں کم نہیں ہوتی سیاست چمکانے کے لیے۔ 19جون کو طاہر القادری کو اسلام آباد کی جگہ لاہور اترا گیا۔

    اگست کے شروع میں سیاسی حدت بڑھ گی جسکی ذمیدار حکومت ہے جس نے ماڈل ٹاون میں ادارہ منہاج القران کو کنٹینرلگاکرچاروں طرف سے بندکردیا ۔ پاکستان تحریک انصاف نےآزادی مارچ اورپاکستان عوامی تحریک نے انقلاب مارچ کے نام سے 14 اگست کو لاہور سے اسلام آبادکا سفر کیا۔ اس وقت صورتحال یہ کہ دونوں مارچ دو دھرنوں کی شکل میں قومی اسمبلی کے سامنے ریڈ زون میں موجود ہیں۔ عمران خان کے انتخابی نظام پر اعتراضات بالکل بجا ہیں اور جن خامیوں کی وہ نشاندہی کرتے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں، مگر عمران خان کے پاس ان خرابیوں کو دور کرنے کے لئے کوئی پروگرام نظر نہیں آتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اُنکے مطالبات بڑھتے چلے گے اور اب عمران خان نے چھ مطالبات کیے ہیں جس میں پہلا مطالبہ نواز شریف کا وزیراعظم کے منصب سے استعفی ہے، دوسری طرف طاہرالقادری اپنے دس نکات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ نہیں بتاتے کہ وہ اس دس نکاتی ایجنڈئے کو کیسے نافظ کرینگے، کیا وہ حکومت پر قبضہ کرینگے یا کوئی اور طریقہ ہے۔ دوسری طرف وہ اس پورئے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ماڈل ٹاون میں قتل ہونے والے افراد کے قتل کا مقدمہ 21 افراد کےخلاف درج کرانا چاہتے ہیں جن میں نواز شریف اور شہباز شریف سرفہرست ہیں۔ نواز شریف اور انکی حکومت کو یہ تمام مطالبے منظور نہیں ہیں جسکی وجہ سے عمران خان اور طاہر القادری نے اپنے اپنے حامیوں کے ساتھ حکومت پر دباوُ بڑھا دیا ہے۔ ان دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے، عمران خان نے دھرنوں کو دوسرئے شہروں میں بھی پھیلا دیا ہے جس میں کراچی اور لاہور بھی شامل ہیں جبکہ کراچی کو ملک کا معاشی حب بھی کہا جاتا ہے۔

    عمران خان اپنے مطالبات پر بہت سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں جبکہ ایک اچھا سیاستدان ایسا بے لچک رویہ کبھی بھی اختیار نہیں کرتا۔ عمران خان کو اپنے مطالبات میں کامیابی ہو یا ناکامی ہر دو صورتوں میں عمران خان کے لئے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہی ہوگا۔ کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ عمران خان کے مطالبات کی منظوری اور ان پر عمل درآمد کی بنیاد پر ہوگا۔ ایک بات جو عمران خان کو نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر وہ اس نظام کو نہیں چلنے دینگے تو کل اگر وہ وزیر اعظم بن گے تو دوسرے بھی اُنکو آرام سے نہیں رہنے دینگے۔ عمران خان کو یہ بھی یاد رہے کہ دھرنے اور احتجاج کے زریعے وزیر اعظم کو ہٹانے اورملکی نظام کو غیر فعال کردینا کسی بھی طرح آئینی اور قانونی طریقہ نہیں۔ اگر نوازشریف خود استعفیٰ دینا چاہئں اور موجود اسمبلی ختم کر دینا چاہئے تو پھر یہ صیح آئینی اور قانونی طریقہ ہوگا۔ آئین میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ وزیر اعظم صدر پاکستان سے درخواست کرے کہ اسمبلی تحلیل کر دی جائے تو صدر اس بات کا پابند ہے کہ وہ اسبملی تحلیل کر دے۔عمران خان کا سارا جھگڑا انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سےہے لیکن یہ بات تو پاکستان کی ہر سیاسی جماعت نے 11مئی 2013ء کو ہی کہہ دی تھی مگر ان انتخابات میں ایک اور دھاندلی بھی ہوئی جو شاید عمران خان کے نزدیک دھاندلی نہ ہو اور عمران خان نے کبھی غلطی سے یا اخلاقی طور پر اس کا ذکر نہیں کیا۔2013ء کے انتخابات سے قبل طالبان کی دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، طالبان دہشتگردوں نے اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کو یہ دھمکی دی تھی کہ وہ الیکشن کی مہم نہ چلایں ورنہ اُن پر حملہ ہوگا اور ایسا ہوا بھی ، اُن جماعتوں میں تین بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی، ایم کیوایم اور اے این پی شامل تھیں،طالبان نے اپنی دھمکیوں پر عمل بھی کیاتو ان سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم بند کردی۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی اور جمیت علمائے اسلام کے دونوں گروپ ف اور س کو انتخابی مہم چلانے کی کھلی چھٹی تھی کیونکہ عمران خان ، نواز شریف، منور حسن، فضل الرحمان اور سمیع الحق یہ سب اور اُنکی جماعتیں طالبان دہشت گردوں کے حامی تھے اور ہیں۔ لہذا نواز شریف، عمران خان، جماعت اسلامی اور فضل الرحمان کو جو سیٹیں ملی ہیں وہ سب کی سب دھاندلی کی مہربانی سے ملی ہیں، آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیسی دھاندلی؟ جواب یہ ہے کہ دھاندلی یہ تھی کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن سے پہلے اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے ریاست نے ایک جیسے مواقع فراہم نہیں کئے۔ مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمیت علمائے اسلام تو بغیر کسی خوف کے شہر شہر سیاسی جلسے کر رہے تھے مگر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کو چھپ چھپ کر انتخابی مہم چلانی پڑی۔تینوں جماعتوں کے جلسوں پر جان لیوا حملے بھی ہوئے لیکن نواز شریف یا عمران خان کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی اسکی مذمت کرتے، مذمت کرتے تو اتنی سیٹیں نہ ملتیں۔ دھاندلی شدہ 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی یقینا جعلی ہےتو پھر عمران خان کی قومی اسمبلی میں حاصل ہونے والی سیٹیں بھی دھاندلی کی پیداوار ہیں، اُنکی کےپی کے کی حکومت بھی جعلی ہے کیونکہ یہ سب دہشتگردوں کی مدد سے حاصل ہوا ہے۔ نواز شریف اورعمران خان کو یہ تو معلوم ہوگا جب دو مقابل پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے کی ایک جیسی آزادی نہ ہو تو اسے بھی دھاندلی کہتے ہیں۔

    اسلام آباد کے دھرنے میں شریک دوسرئے لیڈر طاہرالقادری اُس وقت کنیڈا میں تھے جب مئی 2013ء میں پاکستان میں انتخابات ہوئے، ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی اور ملک کے کڑوڑوں عوام دہشت گردوں کے سامنے بےبس تھے۔ آج طاہرالقادری نے جس انتخابی اصلاحات ، دس نکاتی ایجنڈئے اور انقلاب کی وجہ سے انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا ہےاُسکا صیح وقت جب تھا جب مئی 2013ء میں پاکستان میں انتخابات ہورہے تھے۔ عالمی میڈیا ان دھرنوں کی خبریں اور اُن پرتبصرئے نشر کررہا ہے ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری کے احتجاج نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں زندگی معطل کردی ہے اور شہر کے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ انہیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔برطانوی اخبار گارجین، نے تجزیہ کاروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ حکومت سے پُر تشدد تصادم میں ہی اس احتجاج کا منطقی نتیجہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ آج اسلام آباد کے دھرنوں کے پہلے ذمیدار تو نام نہاد بادشاہ سلامت نواز شریف اور اُنکے نادان دوست یا شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادارہیں ، صرف چودہ ماہ بعد ہی عام لوگوں کا مسلم لیگ ن کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے جسکی وجہ نواز شریف اور شہباز شریف کی طرز حکمرانی ہے اور اسکی وجہ سے ہی آج عمران خان اور طاہرالقادری کو بڑی آسانی سے اسلام آباد پر قبضہ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ عمران خان اور طاہرالقادری نے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے پہلے عوام کے سامنے جو وعدئے کیے اُنکو وہ توڑ چکے ہیں۔ پوری قوم ہیجان میں مبتلا ہے، معاشی طور پر ملک بربادی کی طرف گامزن ہے۔ طاہرالقادری اور عمران خان کو چاہیے کہ اپنےسخت موقف موقف میں لچک پیدا کریں جبکہ حکومت جسقدر ممکن ہو ان دونوں کے مطالبات منظور کرئے۔ بقول عمران خان اللہ نے اُنکو سب کچھ دیا ہوا ہے ، یہ ہی حال طاہرالقادری کا ہے اور نواز شریف کو بھی کوئی کمی نہیں، لیکن اس ملک کے 60 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گذار رہے ہیں لہذا اس ملک پراور اس ملک کے غریب عوام پر آپ لوگ رحم فرمایں اور یہ جواسلام آباد دو دھرنوں کی زد میں ہے اسکو جلد از جلد ختم کریں۔
    سید انور محمود

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (08-22-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    لہذا نواز شریف، عمران خان، جماعت اسلامی اور فضل الرحمان کو جو سیٹیں ملی ہیں وہ سب کی سب دھاندلی کی مہربانی سے ملی ہیں، آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیسی دھاندلی؟ جواب یہ ہے کہ دھاندلی یہ تھی کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن سے پہلے اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے ریاست نے ایک جیسے مواقع فراہم نہیں کئے۔ مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمیت علمائے اسلام تو بغیر کسی خوف کے شہر شہر سیاسی جلسے کر رہے تھے مگر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کو چھپ چھپ کر انتخابی مہم چلانی پڑی۔تینوں جماعتوں کے جلسوں پر جان لیوا حملے بھی ہوئے لیکن نواز شریف یا عمران خان کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی اسکی مذمت کرتے، مذمت کرتے تو اتنی سیٹیں نہ ملتیں۔ دھاندلی شدہ 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی یقینا جعلی ہےتو پھر عمران خان کی قومی اسمبلی میں حاصل ہونے والی سیٹیں بھی دھاندلی کی پیداوار ہیں، اُنکی کےپی کے کی حکومت بھی جعلی ہے کیونکہ یہ سب دہشتگردوں کی مدد سے حاصل ہوا ہے۔ نواز شریف اورعمران خان کو یہ تو معلوم ہوگا جب دو مقابل پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے کی ایک جیسی آزادی نہ ہو تو اسے بھی دھاندلی کہتے ہیں۔
    بہت خوب ، تلخ سچ لکھا ،
    اللہ ملک و قوم کی بہتری کرے ،آمین ،
    اب تو آنکھیں دکھنے لگی ہیں اور دماغ چکرانے لگا ہے ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  5. #4
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک پيغام ديکھيے
    لہذا نواز شریف، عمران خان، جماعت اسلامی اور فضل الرحمان کو جو سیٹیں ملی ہیں وہ سب کی سب دھاندلی کی مہربانی سے ملی ہیں، آپ سوال کرسکتے ہیں کہ کیسی دھاندلی؟ جواب یہ ہے کہ دھاندلی یہ تھی کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن سے پہلے اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے ریاست نے ایک جیسے مواقع فراہم نہیں کئے۔ مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور جمیت علمائے اسلام تو بغیر کسی خوف کے شہر شہر سیاسی جلسے کر رہے تھے مگر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی کو چھپ چھپ کر انتخابی مہم چلانی پڑی۔تینوں جماعتوں کے جلسوں پر جان لیوا حملے بھی ہوئے لیکن نواز شریف یا عمران خان کو کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی اسکی مذمت کرتے، مذمت کرتے تو اتنی سیٹیں نہ ملتیں۔ دھاندلی شدہ 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی یقینا جعلی ہےتو پھر عمران خان کی قومی اسمبلی میں حاصل ہونے والی سیٹیں بھی دھاندلی کی پیداوار ہیں، اُنکی کےپی کے کی حکومت بھی جعلی ہے کیونکہ یہ سب دہشتگردوں کی مدد سے حاصل ہوا ہے۔ نواز شریف اورعمران خان کو یہ تو معلوم ہوگا جب دو مقابل پارٹیوں کو انتخابی مہم چلانے کی ایک جیسی آزادی نہ ہو تو اسے بھی دھاندلی کہتے ہیں۔
    جناب عالی میں یہاں ایک بات واضح کرتا چلا جاؤں کہ جن جماعتوں کی جانب آپ نے اشارہ کرکے کہا ہے کہ مذکورہ جماعتوں کو بھرپور انتخابی مہم کا موقع نہیں ملا تویہاں میں ایک بناےت واضح کراتا چلوکہ سب کو برابر کے مواقع ملے لیکن ایم کیو ایم اور اے این پی کو انتخابی مہم کو یکساں مواقع فراہم کئے گئے تھے کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی تھی دوسری بات یہ کہ ان کے نمائندے ہر وقت میڈیا پر چھائے رہتے ہیں ۔دوسری بات کہ ان پارٹیوں نے جان بوجھ کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کےلئے بڑے جلسوں سے اجتناب کیا ۔عمران خان اور دوسری تمام جماعتوں نے کراچی میں جلسے کئے کیا ان سے دہشت گردوں کے مراسم تھے اور یہ سب جانتے ہیں کہ کراچی کا امن سبوتاژ کرنے میں کس کا ہاتھ اور کراچی کی ڈان پارٹی کون سی ہے ۔انتخابات کی دھاندلی ایک الگ بات ہے لیکن کراچی کے سیاسی حالات ایک الگ چیز ہے۔جو یہ سمجھتا ہے کہ ان کو انتخابی مواقع نہیں ملے تو پہلے وہ ان جماعتوں کی ہسٹری اور نفسیات سے آگاہی حاصل کریں ۔پورے کراچی میں تو ان کے ہی جھنڈے پوسٹر ہوتے ہیں۔اب انتخابات ہوتے ہی کراچی میںبڑے بڑے جلے جلوس ریلیاں منعقد گئیں تو اس وقت ان کو ڈر نہیں تھا حملوں کا کیا انتخابات مکمل ہوتے ہی دہشت گرد ان کے دوست بن گئے ؟
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  6. #5
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    جواب: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    جناب عالی میں یہاں ایک بات واضح کرتا چلا جاؤں کہ جن جماعتوں کی جانب آپ نے اشارہ کرکے کہا ہے کہ مذکورہ جماعتوں کو بھرپور انتخابی مہم کا موقع نہیں ملا تویہاں میں ایک بناےت واضح کراتا چلوکہ سب کو برابر کے مواقع ملے لیکن ایم کیو ایم اور اے این پی کو انتخابی مہم کو یکساں مواقع فراہم کئے گئے تھے کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی تھی دوسری بات یہ کہ ان کے نمائندے ہر وقت میڈیا پر چھائے رہتے ہیں ۔دوسری بات کہ ان پارٹیوں نے جان بوجھ کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کےلئے بڑے جلسوں سے اجتناب کیا ۔عمران خان اور دوسری تمام جماعتوں نے کراچی میں جلسے کئے کیا ان سے دہشت گردوں کے مراسم تھے اور یہ سب جانتے ہیں کہ کراچی کا امن سبوتاژ کرنے میں کس کا ہاتھ اور کراچی کی ڈان پارٹی کون سی ہے ۔انتخابات کی دھاندلی ایک الگ بات ہے لیکن کراچی کے سیاسی حالات ایک الگ چیز ہے۔جو یہ سمجھتا ہے کہ ان کو انتخابی مواقع نہیں ملے تو پہلے وہ ان جماعتوں کی ہسٹری اور نفسیات سے آگاہی حاصل کریں ۔پورے کراچی میں تو ان کے ہی جھنڈے پوسٹر ہوتے ہیں۔اب انتخابات ہوتے ہی کراچی میںبڑے بڑے جلے جلوس ریلیاں منعقد گئیں تو اس وقت ان کو ڈر نہیں تھا حملوں کا کیا انتخابات مکمل ہوتے ہی دہشت گرد ان کے دوست بن گئے ؟[/quote]

    آپ اس بات کا یقین کریں کہ مجھے نہ تو سیاسی طور پر ایم کیو ایم یا اے این پی سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ پی ٹی آئی کی سیاسی مخالف، لیکن بہت معذرت کے ساتھ میں آپکے تبصرئے سے اتفاق نہیں کرتا۔
    سید انور محمود

  7. #6
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: اسلام آباد دودھرنوں کی زد میں

    مجھے افسو س ہے آپ کی اس بصارت پر کہ آپ ایک اچھے مدبر ہیں اور پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر ایک اپنے خیالات کا اظہار کرسکتاہے ۔ آپ کی رائے میں آپ کو سیاست سے دلچپی نہیں ہے اور نہ ہی کسی سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے لیکن ؎آپ کے اقتباس سے تو کچھ اور ظاہر ہوتا ہے اور حقیقت سے بھی آنکھ نہیں پھیر ی جاسکتی ہے ۔جو حقیقت تھی میں نے بیان کردی انکھ بند کرنے سے حقیقت جھٹلائی نہیں جاسکتی ۔ معذرت کے ساتھ۔
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University