نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: محبت پر بہت مغرور ہوں میں

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 574 اظہار تشکر

    محبت پر بہت مغرور ہوں میں

    محبت پر بہت مغرور ہوں میں
    ابھی منزل سے کوسوں دور ہوں میں

    حسیں جلوؤں کا مرکز بن گیا ہوں
    ادھر دیکھو سراپا طور ہوں میں

    جہانِ عاشقی میں ضبط کے ساتھ
    فغاں کرنے پہ بھی مجبور ہوں میں

    چڑھا دو مجھ کو تم دارِ نظر پر
    محبت کی قسم منصور ہوں میں

    جفاؤں سے نہ اپنی دست کش ہو
    جفائے حُسن پر مسرور ہوں میں

    قریں تر ہوں زمانے کی نظر سے
    مگر اس کی نظر سے دور ہوں میں

    مری ہستی کو اے بہزاد دیکھو
    کہ خود ناظر ہوں، خود منظور ہوں میں
    بہزاد لکھنوی

    جاذبہ


    اردومنظرفورم

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (09-03-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: محبت پر بہت مغرور ہوں میں

    بہزاد لکھنوی کی بے حد خوبصورت شاعری ، زبردست ، آپ کی پسند کا میں قائل ہو گیا ،
    قریں تر ہوں زمانے کی نظر سے
    مگر اس کی نظر سے دور ہوں میں

    مری ہستی کو اے بہزاد دیکھو
    کہ خود ناظر ہوں، خود منظور ہوں میں
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University