نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: حضرت حسین رضی اللہ عنہ

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    Lightbulb حضرت حسین رضی اللہ عنہ


    حضرت حسین رضی اللہ عنہ!
    ولادت:
    ابھی آپ شکم مادر ہی میں تھے کہ حضرت حارثؓ کی صاحبزادی نے ایک خواب دیکھا کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ کے جسد اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گودمیں رکھ دیا۔ انہوں نے آنحضرت ﷺسے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا ہے جو ناقابل بیان ہے۔ فرمایا بیان کرو آخر کیا خواب ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے اصرار پر انہوں نے خواب بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا یہ تو نہایت مبارک خواب ہے۔ فاطمہ کے لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے گود میں لوگی۔ (مستدرک حاکم جلد ۳ صفحہ ۱۷۶)
    کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیر ملی۔ حضرت سیدنا حسینؓ بروز شنبہ ۴ شعبان ۴ ہجری جنوری ۲۶۲ عیسوی کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ رسول اللہ ﷺتشریف لائے اور فرمانے لگے بچے کو دکھاؤ، کیا نام رکھا گیا؟ نو مولود بچے کو منگاکر اس کے کانوں میں اذان دی، پھر فاطمہؓ کو عقیقہ کرنے اور بچہ کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کرنے کا حکم دیا۔ ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ والدین نے حرب نام رکھا تھا آپ صلی اللہ ﷺکو یہ نام پسند نہ آیا آپ نے بدل کر حُسین رکھا کیوں کہ آپ حسن و جمال میں بھی باکمال تھے۔(مستدرک حاکم، اسدالغایہ)
    نام ونسب:
    حُسینؓ نام، ابو عبداللہ کنیت، سید اشباب اہل الجنہ لقب، والد کا نام علیؓ۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ حُسینؓ بن علیؓ بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔
    فضائل:
    (۱)رسول اللہﷺنے فرمایا: حَسن اور حُسینؓ نوجوانان جنت کے سردار ہیں۔
    (۲) آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! میں ان دونوں (حضرت حسنینؓ) سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کرتے ہیں ان کو بھی تو اپنا محبوب بنالے۔
    (۳) فرمایا رسول اللہ ﷺنے حسین مجھ سے ہے اور میں حُسین سے ہوں۔ جو حسین سے محبت رکھے اللہ اس سے محبت رکھے۔
    (۴) آپ ﷺنے فرمایا اے اللہ! میں حسین سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما۔
    (۵) آپ ﷺنے فرمایا میرا یہ بیٹا (حضرت حسینؓ) ارض عراق میں قتل ہوگا۔ تم میں سے جو موجود ہو اسے چاہیے اسکی مدد کرے۔
    (۶) آپ ﷺ نے فرمایا جس کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ جنتی شخص کو دیکھے اسے چاہیے کہ حضرت حُسین بن علیؓ کو دیکھ لے۔
    (۷) آپ ﷺ نے فرمایا جس نے ان دونوں (حضرات حسنینؓ) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (ابن ماجہ، ترمذی، مستدرک حاکم، بخاری مسلم)
    شہادت:
    یکم محرم الحرام 61 ہجری کو حضرت حُسینؓ کربلا پہنچے اور دوسرے دن عمر بن سعد پہنچا۔ عمر بن سعد نے کہا بے شک آپ یزید کے مقاملے میں خلافت کے زیادہ مستحق ہیں لیکن خدا کو منظور نہیں کہ حکومت و خلافت آپ کے خاندان میں رہے۔ حضرت علیؓ اور حضرت حسنؓ کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ اگر آپ حکومت کا خیال چھوڑ دیں تو آپ کو آزاد کیا جاسکتا ہے ورنہ آپ کی جان کو خطرہ ہے اور ہمیں آپ کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
    آپؓ نے فرمایا میں اس وقت تم سے تین (3) باتیں کہتا ہوں جس بات کو چاہو میرے لئے منظور کرلو۔ پہلی یہ کہ مجھے واپس مکہ جانے دو تاکہ میں وہاں پہنچ کر عبادت الٰہی میں مصروف ہو جاؤں۔ دوسری یہ کہ مجھے کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو تاکہ میں کفار سے لڑتا ہوا شہید ہوجاؤں۔ تیسری یہ کہ مجھے یزید کے پاس دمشق جانے دو۔ تم میرے پیچھے پیچھے اپنے اطمینان کی غرض سے چل سکتے ہو۔ میں یزید کی پاس جاکر براہ راست معاملہ طے کرلوں گا جیسا کہ میرے بھائی امام حسنؓ نے امیر معاویہؓ سے طے کیا تھا۔ ابن سعد نے حضرت سیدنا حسینؓ کا پیغام عبیداللہ بن زیاد تک پہنچایا۔ عبیداللہ بن زیاد خوش ہوا کہ حضرت حسین ؓیزید کی بیعت کرلیں گے لیکن وہاں شمر بھی موجود تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ حُسینؓ کو قتل کردو کیونکہ یزید کے ہاں ان کے مقابلے میں تمہاری عزت نہ رہے گی۔ چنانچہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو لکھ بھیجا کہ یہ تینوں باتیں منظور نہیں۔ حضرت حسینؓ اپنے آپ کو ہمارے حوالے کردیں اور میرے ہاتھ پر یزید کی بیعت کرلیں۔
    حضرت سیدنا حسینؓ نے فرمایا ابن زیاد کے ہاتھ پر یزید کی بیعت کرنے سے

    مرجانا بہتر ہے۔ اسی خط و کتابت میں ایک ہفتہ گزر گیا۔ بن زیاد کو فکر لاحق ہوئی، اس نے ابن سعد کو غصہ بھرا خط لکھا اور جنگ شروع نہ کرنے پر گرفتاری کی دھمکی دی۔ پھر شمر کو بھی فوج دے کر کربلا روانہ کیا کہ اگر تم نے حسین کو گرفتار نہ کیا یا سر کاٹ کر میرے پاس نہ لائے تو تمہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ یہ خط ۹ محرم الحرام ۶۱ ہجری کو ابن سعد کے پاس پہنچا ابن سعد نے فوج کو جنگ کے لئے تیاری کا حکم دے دیا اسی شام شمر بھی کربلا پہنچ گیا۔
    ۹ محرم الحرام ۶۱ ہجری کی رات کو حضرت حُسین اور اُن کے ساتھیوں کو پانی سے محروم کردیا گیا پھر دس محرم کا دن شروع ہوا لشکر حسینؓ کی طرف سے سے پہلے عمر بن سعد نے تیر چلایا۔ جنگ سے پہلے حضرت امام حسینؓ نے کوفہ والوں کو اُن کے خطوط اور وفاداری کے وعدے یاد دلائے لیکن کسی نے انکا ساتھ نہ دیا۔ جنگ شروع ہوئی تو حضرت حُسینؓ کے ساتھیوں اور اہل خانہ نے بہادری کے جوہر دکھائے۔ ایک ایک کرکے شہید ہوتے چلے گئے۔ خیمے میں حضرت علیؓ اوسط زین العابدین رہ گئے جو بیمار تھے۔ حضرت حسینؓ تنہا رہ گئے لیکن اتنی بہادری اور جرأت سے لڑے جس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ پر چاروں طرف سے نیزوں اور تیروں اور تلواروں سے حملے ہورہے تھے۔ آپ دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ آپ کے جسم پر تیر کے پنتالیس (45)زخم آئے ایک اور روایت کے مطابق ۳۳ (33) زخم نیزے کے اور (43) زخم تلوار کے بھی تھے گھوڑا زخمی ہو کر گر پڑا آپ نے پیدل لڑنا شروع کردیا۔ شمر نے چھ آدمیوں کو ساتھ لیکر آپ پر حملہ کیا۔ ایک نے تلوار کے وار سے حضرت حسینؓ کا بایا ہاتھ کاٹ دیا۔ دایاں ہاتھ اس قدر زخمی تھا کہ تلوار اٹھانا مشکل تھی۔ اسی دوران سنان بن انس نے آپ کے شکم میں نیزہ مارا۔ اور آپ شہید ہوگئے شمریا اس کے حکم سے کسی دوسرے شخص نے حضرت حسینؓ کا سرکاٹ لیا ابن زیاد کے حکم سے بارہ سو گھوڑے سواروں نے آپ کے جسم مبارک کو خوب کچلا۔ آپ کا سر مبارک اور اہل بیت کوفہ میں ابن زیاد کے پاس بھیج دیے گئے۔ تیسرے روز شمر کے ساتھ ایک فوجی دستے کی نگرانی میں یہ قیدی اور سر مبارک دمشق روانہ کیا گیا۔ چند دن مہمان رکھنے کے بعد اس تباہ حال قافلے کو مدینہ روانہ کیا گیا۔(تاریخ طبری، تاریخ اسلام، اسدالغایہ تاریخ ابن ہشام، تاریخ ابن خلدون)
    حضرت حسین کی شہادت کی خبر سن کر یزید کے تاثرات!
    چنانچہ سب سے اول زحد بن حسین نے یزید کے دربار میں حضرت حسینؓ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر پہنچائی اور غایت خیر خواہی میں اس کو پوری تفصیل سے مزے لے کر بیان کرنے لگا۔ تو یزید انہیں سن کر آبدیدہ ہو۔اور بولا اگر تم لوگ حسین کو قتل نہ کرتے تو میں تم سے زیادہ خوش ہوتا۔ ابن زیاد پر خدا کی لعنت ہو اگر میں ہوتا خدا کی قسم! حسین کو معاف کردیتا خدا حسین پر اپنی رحمت نازل کرے۔ زحرنے انعام و اکرام کی لالچ میں بڑی لفاظی کی لیکن یزید نے اسے کچھ نہ دیا۔
    (طبری جلد ۷ صفحہ ۳۷۵)

    10447115_900096776667003_3633668047908318318_n.jpg

    جاذبہ


    اردومنظرفورم

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (11-04-2014),حبیب صادق (11-08-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: حضرت حسین رضی اللہ عنہ

    یقینا شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک المیہ ہے اسلامی تاریخ کا ، جنت کا شہزادہ اپنے ساتھیوں سمیت شہادت کا جام پی کر اسلام کا نام بلند کر گیا ،
    اللہ تعالی ہمیں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہو ، آمین ۔
    حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رجی اللہ عنہ کا بچپن پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سرپرستی میں گزرا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ ان دونوں معصوماں کو چوماں کرتے تھے ۔ اور یہاں تک کے سجدے میں
    اگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر سوار ہو جاتے تو آپ ان کو نیچے نہیں اتارتے تھے ، خطبہ دیتے ہوئے بھی اگر وہ سامنے سے آ جاتے تو حضور صلی اللہ عنہ خطبہ چھوڑ کر ان کو پاس بلا لیتے تھے ،
    کیا بہترین پرورش تھی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    حبیب صادق (11-08-2014),جاذبہ (11-04-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    2,042
    شکریہ
    639
    698 پیغامات میں 724 اظہار تشکر

    جواب: حضرت حسین رضی اللہ عنہ

    سبحان اللہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University