نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: فیس بک اور ڈرامے

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    Cool فیس بک اور ڈرامے

    اگر آپ نے بہترین ڈرامے دیکھنے ہوں تو ٹی وی بند کرکے فیس بک کھول لیں‘ ماشاء اللہ ایسا ایسا ڈرامہ ملے گا کہ دل عش عش کر اٹھے گا۔ پچھلے دنوں فادرز ڈے پر بھی فیس بک پر محبت اورشفقت بھرے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ میرے ایک جاننے والے جو عرصہ تین سال پہلے اپنے والد صاحب کو گھر سے نکال کر ایدھی سنٹر میں پھینک چکے ہیں انہوں نے بھی والد صاحب کے ساتھ خصوصی طور پر تصویر بنوائی اور اوپر کیپشن دیا’’میرے پیارے ابا جی! جن کے بغیرمیں کچھ بھی نہیں‘‘۔اس پوسٹ پر ڈھیروں کمنٹس آئے اور چاہنے والوں نے بھی اس عظیم بیٹے کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔میرے ایک اور جاننے والے کو شکایت تھی کہ اس کی پوسٹ پر کبھی تین سے زیادہ کمنٹس اور چار سے زیادہ Likes نہیں ملتے‘ اِن میں سے بھی ایک Like اُس کا اپنا ہوتاہے۔ اب اس نے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے اور اپنی ہر پوسٹ میں پہلے سے وفات شدہ رشتہ داروں کو دردناک طریقے سے دوبارہ مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے‘ اس کی نئی پوسٹس کے مطابق اس کی ماں جیسی داد ی موٹر کے پٹے میں پھنس کر جاں بحق ہوئی‘ ہر دل عزیز خالو ایک مرغی کو بچاتے بچاتے موٹر سائیکل گندے نالے میں جاگرے‘ باپ سے بھی زیادہ پیارے پھوپھا چھ سال تک کینسر سے لڑتے لڑتے نمونیا سے جاں بحق ہوئے اور زندگی کا آخری سہارا‘بڑی خالہ چکن کھاتے کھاتے ’’چکن پاکس‘‘ میں مبتلا ہوکر خالق حقیقی سے جاملیں۔موصوف کو سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کا ایسا جنون ہے کہ جب حقیقت میں ان کے والد صاحب نے رحلت فرمائی تو کفن دفن کے انتظامات میں شریک ہونے کی بجائے لمحہ بہ لمحہ سٹیٹس اپ ڈیٹ کیا اور جنازے کی رننگ کمنٹری فرمائی۔
    کئی ایسے بھی ہیں جنہیں فیس بک پراسلام کی حیرت انگیز خبریں پھیلانے کا بڑا شوق ہے‘ یہ بیٹھے بٹھائے کسی کو بھی مشرف بہ اسلام کر دیتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اب تک مسٹر بین‘ آرنلڈ‘ ٹام کروز‘ کلنٹن‘ٹونی بلیئر‘ڈیمی مور‘ شکیرا‘ سونیا گاندھی اور اسی نوح کی دیگر اہم شخصیات دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی ہیں۔ان کو یہ بھی بڑا شوق ہے کہ یہ کوئی ایسی پوسٹ لگائیں جس میں ان کی تحقیقی صلاحیتوں کے سبھی قائل ہوجائیں لہذا یہ کسی بھی بڑی مونچھوں والے بندے کی مبہم سی تصویر لگاتے ہیں اور اس کے گرد سرخ دائرہ کھینچ کر اوپر لکھ دیتے ہیں’’گلوبٹ اسرائیلی وزیر اعظم کوچرس والا سگریٹ بھر کر دے رہا ہے‘‘۔کئی لوگ فیس بک کو محض اپنا چاند سا مکھڑا دکھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں‘ یہ ہر روز الٹے بلیڈ سے شیو کرکے اپنی تصویر بناتے ہیں اور پھر 6 X 8کے سائز میں وال پر جڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو خواتین کی پوسٹ کی بو سونگھتے پھرتے ہیں۔ خاتون اگر شاعرہ ہو تو سونے پہ سہاگہ ثابت ہوتی ہے‘ لہذا جس جس کو بھی اِن پیج اور کورل ڈرا کا تھوڑا سا بھی استعمال آتاہے وہ رنگ برنگی ڈیزائننگ کرکے خاتون کوان الفاظ میں بھیج دیتاہے’’اپنی پیاری‘ خوبصورت‘ دلکش‘ جاذب نظر ‘ سمارٹ اورحسین آپی کی نذر‘‘۔۔۔آپی بھی اس کا مان نہیں ٹوٹنے دیتیں اور پورے خلوص کے ساتھ نہ صرف اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہیں بلکہ یہ 48 رنگوں سے سجا شعر اپنی Wall پر بھی آویزاں کرتی ہیں۔ایسی ’’آپیوں‘‘کے شعر کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں’’نہ جانے کس کا انتظار ہے مجھ کو۔۔۔میں کافی دیر سے بیٹھی ہوں لیکن سمجھ نہیں آرہا‘‘۔ چونکہ شعر کے ساتھ آپی کی تازہ ’’پروفائل پکچر‘‘ بھی ہوتی ہے لہذا جونہی یہ شعر ’’آن ایئر‘‘ ہوتاہے ‘ چیتے کی رفتار سے Likes اور کمنٹس آنا شروع ہوجاتے ہیں‘ کئی ایک تو جوش جذبات میں یہاں تک لکھ جاتے ہیں’’آپی!آپ کا شعر آپ ہی کی طرح دل موہ لینے والا ہے‘‘۔
    کئی لوگوں نے فیس بک پردنیا کو سدھارنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے‘ یہ ہر وقت نیکی کی تلقین میں لگے رہتے ہیں ‘ قیامت کی نشانیاں بتاتے ہیں‘ غیر عورتوں سے باتیں کرنے کی علتیں بیان کرتے ہیں اور برائی کے خاتمے کے لیے دن رات پوسٹیں بھیجتے ہیں تاہم خود ان کا خاتمہ کو ئی فیک آئی ڈی والی عورت کرتی ہے۔ایسے لوگوں کی اکثریت ایک دن میں چھ بالغوں کے لطیفے اور بیس احادیث پوسٹ کرکے سوتی ہے۔ جس طرح سمارٹ فون استعمال کرنے والے کوئی بھی اپلیکیشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے پہلے اس کے ڈاؤن لوڈز چیک کرتے ہیں اسی طرح فیس بک پر بھی کسی پوسٹ کی اہمیت کا معیار اس کے شیئرز‘ لائیکس اور کمنٹس بن چکے ہیں‘ جن لوگوں کو یہ تینوں نعمتیں نصیب نہیں ہوتیں وہ اپنی پوسٹ کے نیچے دھمکی لگا دیتے ہیں کہ’’اگر آپ مسلمان نہیں تو اس کو شیئر مت کریں‘‘۔
    کئی لوگ عجیب و غریب قسم کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہیں مثلاً’’میں اپنا فیس بک اکاؤنٹ بند کر رہا ہوں‘ آپ دوستوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گذرا‘ کوئی غلطی کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کردیجئے گا‘‘۔اس قسم کے سٹیٹس کا ایک فائدہ ضرور ہوتاہے کہ دس پندرہ جاننے والوں کے کمنٹس آجاتے ہیں ‘ ان میں سے کئی قریبی دوست یہ بھی کہہ دیتے ہیں’’بڑی مہربانی اب واپس نہ آنا‘‘۔کئی لوگ اتنے فارغ ہوتے ہیں کہ فیس بک پر بیٹھے بیٹھے پندرہ بیس لوگوں کو Group Chat کا میسج بھیج دیتے ہیں تاہم اگر یہ بیس لوگوں کو میسج بھیجتے ہیں تو اگلے دس سیکنڈ میں پچیس لوگ اس ’’کھپ خانے ‘‘ سے Leave کرجاتے ہیں۔فیس بک استعمال کرنے والوں کی اکثریت اپنا سافٹ امیج بنانے کی کوشش میں لگی رہتی ہے‘ یہ اپنی ماں کے ہاتھ کے بنے ہوئے سالن کی تصویریں تو پوسٹ کرتے ہیں لیکن کبھی ان کی ماؤں سے پوچھیں تو پتا چلے کہ وہ بیچاری دن رات کڑھتی رہتی ہیں کہ کم بخت ہر وقت بیوی کے پاس گھسا رہتاہے۔
    وہ لوگ بھی فیس بک پر بھرے ہوئے ہیں جنہیں دوسروں کی پوسٹس کے کمنٹس پڑھنے کی بجائے دیکھنے کی بیماری ہے‘ جن کمنٹس کے ساتھ انہیں مستورات کی تصاویر نظر آتی ہیں یہ جھٹ سے انہیں فرینڈز ریکوئسٹ بھیج دیتے ہیں‘ یہ ایک دن میں بیس بیس لوگوں کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجتے ہیں اور پھر ایک دن وہ بھی آتا ہے جب ان کے سٹیٹس پر یہ جملہ پڑھنے کو ملتاہے’’الحمد للہ! آج میرے فرینڈز کی تعداد پانچ ہزار ہوگئی ہے‘‘۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن کی فرینڈز لسٹ میں وہ’’کالی کلوٹی‘‘ انگریز خواتین بھی شامل ہوتی ہیں جو آج کل ہر ’’فیس بکئے‘‘ کو اِن باکس میں میسج بھیجتی ہیں کہ ’’مجھے تمہارے پروفائل نے بہت متاثر کیا ہے مجھ سے میرے ای میل ایڈریس پررابطہ کرو میں تمہیں اپنے بارے میں بہت کچھ بتانا اور دکھانا چاہتی ہوں‘‘۔ایسی ہی خواتین کے روزانہ تین چار میسجز مجھے بھی موصول ہوتے ہیں اور دل خوش ہوجاتاہے کہ کتنی مشکل سے یہ نیک بیبیاں ٹائم نکال کر ‘ ڈکشنری کی مدد سے میرے اُردو کالمز پڑھتی اور سر دھنتی ہوں گی۔فیس بک پر گروپس بنانے کا بھی بہت رجحان ہے‘ کئی ایسے بھی گروپ ہیں جن میں صرف گروپ بنانے والا ہی ممبر ہے‘ جن گروپس میں پچاس سے زیادہ ممبرز ہیں ان میں سے اکثر ’’ہتھوڑا گروپ‘‘ کا روپ دھا رچکے ہیں۔بہرحال کچھ بھی ہو‘ فیس بک کسی بھی قسم کی رنگ بازی کے لیے بہترین جگہ ہے‘ مہنگائی کی وجہ سے ہم اپنا معاشی سٹیٹس تو اپ گریڈ نہیں کرسکتے ‘فیس بک کا سٹیٹس تو اپ ڈیٹ کرسکتے ہیں ناں۔۔۔!!!

    (گل نوخیر اختر )







    جاذبہ


    اردومنظرفورم

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (11-17-2014),بےباک (11-17-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: فیس بک اور ڈرامے

    ہاہاہا،،،، گل نوخیر کی ہر تحریر کا اپنا مزا ہے،،
    خاص طور پر مجھے یہ تحریر جو اردو منظر پرپیش کی ہے ، پڑھ کر بے حد مزا آیا ہے ،
    ایسی ’’آپیوں‘‘کے شعر کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں’’نہ جانے کس کا انتظار ہے مجھ کو۔۔۔میں کافی دیر سے بیٹھی ہوں لیکن سمجھ نہیں آرہا‘‘۔ چونکہ شعر کے ساتھ آپی کی تازہ ’’پروفائل پکچر‘‘ بھی ہوتی ہے لہذا جونہی یہ شعر ’’آن ایئر‘‘ ہوتاہے ‘ چیتے کی رفتار سے Likes اور کمنٹس آنا شروع ہوجاتے ہیں‘ کئی ایک تو جوش جذبات میں یہاں تک لکھ جاتے ہیں’’آپی!آپ کا شعر آپ ہی کی طرح دل موہ لینے والا ہے‘‘۔
    ھاھاھاھاھاھا

    شکریہ جاذبہ جی ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (11-18-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: فیس بک اور ڈرامے

    بہت خوب میرٰی آج ہی محترم بے باک جی سے بات ہوئی تھی اس دوران فیس بک اور ڈرامے پہلے پہل تو میں یہ سمجھا کہ شائد یہ پہلے کے پرانے پاکستانی ڈراموں کے بارے میں ہوگا پھر خیال آیا کہ آج کل کے انڈیا کے ریڈی میڈ ڈرامہ جات کے بارے میں ہوگا لیکن جب اس وقت میں نے اس کو دیکھا اور نظار کیا تو مجھے اب لگا کہ واقعی اس بڑا ڈارا مہ تو فیس بک پر ہوتا ہےلیکن ایسا کیوں ہوتا ہے وجہ اس کی یہ ہے
    کہ یہاں بت سے ڈرامہ ہوتے ہیں اور فیس بک جس مقصد کے لئے بنائی گئی تھی اس کا اصل مقصد فوت ہوچکا ہے اب فیس بک صرف ٹائم پاس کرنے اور اس قسم کی ڈرامہ بازی کےلئے رہ گئی ہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں انقلاب لانے کے لئے جو بھی کام آج کل ہورہے ہیں اس میں سب سے بڑا کام فیس بک کا ہی ہے-
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (11-18-2014),جاذبہ (11-18-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University