تُو جو کہتا ہے محبت سے بڑا دُکھ کیا ہے
دیکھ پردیس میں جینے کے یہ انداز تمام

ہجر کے کرب سے بڑھ کر ہیں جہاں اور بھی رنج
تُو جو سمجھے بُجھے چہروں میں چُھپے راز تمام

دیکھ تو، دھوپ جلے چہروں میں یہ گرد ہے کیا
گھر کو ترسی ہوئی سِسکی میں چُھپا درد ہے کیا

رنگ ہی رنگ ہے پھولوں میں مگر مہک نہیں
صبح کی پہلی کرن کِس نے وہاں دیکھی ہے

شام تاثیر نہیں دیتی تھکے جسموں کو
رات کو ماں کی وہ لوری بھی کہاں ملتی ہے

بارشیں مٹی کو خوشبو نہیں دے پاتی ہیں
موسموں کی رُتیں بس آ کے چلی جاتی ہیں

ہر مکاں لکڑی کا ڈھانچہ تو ہے لیکن ایسا
اپنا سایہ ہی جہاں خوف دلاتا ہے بہت

کہنے کو تو کئی آرائیشیں رکھی ہیں مگر
سُونا، بے رنگ سا آنگن نظر آتا ہے بہت


دھوپ ہے پیلا سا اک رنگ، تمازت کے بغیر
خُشک چہرے نظر آتے ہیں، شرارت کے بغیر

تُو نے دیکھا نہیں آنکھوں سے جو بہتا ہے لہو
تجھ کو معلوم نہیں کیا ہے غریب الوطنی

پھینک دے عشق و محبت میں لکھے باسی حرف
دیکھ وہ ہونٹ نہ مِل پائے جنہیں تازہ ہنسی

رنج نہ کر، بڑی پُرلطف تری دنیا ہے
تُو نے تو صرف محبت کا ہی دُکھ دیکھا ہے