نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: 1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

  1. #1
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

    1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا
    facebook.jpg
    پاکستان کے 1965 کا یہ عظیم فرزند پاکستان ایم ایم عالم اس وقت موت وحیات میں مبتلا ہیں - دعائے صحت یابی کی جائے -
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (12-04-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    جواب: 1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

    جناب محمد محمود عالم صاحب ، ایر کموڈور جن کو دنیا ایم ایم عالم کے طور پر جانتی ہے ، وہ 6جولائی 1935 کو پیدا ہوئے ، اور ان کی وفات 18 مارچ 2013 کو ہوئی ،
    انا للہ و انا الیہ راجعون ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروفیسر راجہ احسان عزیز صاحب لکھتے ہیں ،
    ہماری تاریخ میں ایم ایم عالم کا مقام نہ صر ف قومی ہیرو بلکہ ایک عظیم مجاہد کا رہے گا۔اگرچہ 18مارچ 2013ءکو ان کی وفات پر اخبارات نے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔تا ہم فضائی کارناموں کے برعکس ان کی بر سرِ زمین جدوجہد اور ایمان افروز زندگی کے حوالے سے معلومات کا فقدان رہا۔گزشتہ تین دہائیوں سے ایم ایم عالم سے قریبی تعلق کی بنیاد پر اس کمی کو پورا کرنے کی یہ ایک سعی ہے۔
    محمد محمود عالم کا آبائی تعلق بہار(پٹنہ)سے تھا جہاں سے ان کے اباﺅ اجداد کلکتہ آباد ہوئے۔ 6جولائی 1935ءمیں ان کی پیدائش کلکتہ میں ہوئی۔قیام پاکستان کے دوسرے دن خاندان نے ڈھاکہ ہجرت کی۔1967ءمیں ان کے والد، جو ڈپٹی سیکرٹری تھے،وفات پاگئے۔باقی خاندان 1971ءکے بحران میں کراچی منتقل ہو گیا۔ایم ایم عالم نے1952ءمیں ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی۔مشرقی پاکستان سے انہیں بے حد محبت تھی۔پاکستان ٹوٹنے پر نہایت غمزدہ رہے۔برصغیر کے مسلمانوں کی وحدت ،امت کی بیدار ی¿ نو اور غلبہءاسلام پر کامل یقین رکھتے تھے ۔خطے میں ایک فیصلہ کن جنگ اور اس کے لئے تیاری کی فکر کرتے تھے۔
    عالم صاحب کو میں نے پہلی مرتبہ اپنی طالب علمی کے دوران جامعہ کراچی کے آ ڈیٹوریم میں 1970ءمیں نعرہ ہائے تکبیر کی پر جوش گونج میں سٹیج پر دیکھا۔ دوران ِ تقریر انہوں نے1965ءمیں اپنے فضائی معرکے کو خالصتاََ اللہ کی مدد سے منسوب کیا۔ برملا کہا کہ یہ صرف اللہ کی کرم نوازی تھی۔میں نے اپنی آنکھوں سے ملائکہ دیکھے(I saw angels in the sky with my own eyes)۔اس وقت بھی ان کے مغربی لباس اور انگریزی خطاب میں ایمان کی خوشبو موجودتھی۔جو بعد ازاں روایتی افسرانہ طرزِ زندگی ترک کرکے ایک مکمل اسلامی شناخت میں ڈھل گئی۔عالم صاحب اس دین آزاد دور میں تائب ہوئے اور دوسروں کو شراب ترک کرنے اور را ہِ راست اختیار کرنے کی تلقین کیا کرتے۔یہ وہ دور تھا جب سول ملٹری میسوں اور کلبوں میں کھلے عام شراب نوشی افسرانہ آداب کا باضابطہ حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ اسلام کے نام پر حاصل کردہ ملک سے بے وفائی ہے۔ان کی اس تبدیلی اور رویے نے کئی لوگوں خصوصا سینئر افسران کی ناپسندیدگی بھی مول لی لیکن وہ اسے حق گردانتے ہوئے ثابت قدم رہے۔
    ان سے میرے طویل ذاتی تعلق کا آغاز 1984ءمیں ہوا جب میں قائد اعظم یونیورسٹی اسلا م آ باد میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں تدریس کے ساتھ ،اس وقت جاری جہادِافغانستان پر تحریر و تحقیق میں سرگرمِ عمل تھا۔ساتھ ہی جنگی صورتحال پر سٹر یٹیجک اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں ماہانہ بریفنگ بھی دیا کرتا تھا۔جامعہ کراچی سے تازہ فارغ ہو کر میرے ساتھ رضاکارانہ معاونت کرنے والے رفیق افغان(روزنامہ امت کے سربراہ)نے ایک روز عالم صاحب سے کراچی میں اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا ۔وہ 1982ءمیں جبری ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل گوشہ نشینی اختیار کر چکے تھے۔کتب و رسائل،اخبارات اور عبادت میں خود کو مصروف رکھتے تھے ۔تاہم افغانستان میں روسی جارحیت کے بارے میں باخبر اور فکرمند رہتے تھے۔خیال آیا۔کیوں نہ ایسے بیش قیمت شخص کو متحرک کر کے ملک و ملت کو اُس کی صلاحیتوں سے مستفید کیا جائے۔ایم ایم عالم احتجاجاََپنشن لینے سے انکاری تھے۔نیز اندرون و بیرونِ ملک سے کئی پرکشش پیشکشیں بھی مسترد کر چکے تھے۔ ادھر ہمارے پاس ان کو دینے کیلئے خلوص کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔
    اسلام آباد آمد سے اس گوشہ نشین قومی ہیرو کا جمود ٹوٹا اور یہی ہم چاہتے بھی تھے۔قائد اعظم یونیورسٹی اور دیگر مقامات پر انہوں نے افغانستان اور دیگر دفاعی امور پر بہت عمدہ اعزازی لیکچرز دیئے، سیمینارز میں شرکت کی۔میری ماہانہ افغان بریفنگ میں بھی شرکت کی جہاں مرحوم بریگیڈیر نور حسین (قائد اعظم کے اے ڈی سی)ان کا پرجوش استقبال کرتے اور دونوں مل کر مسلم بنگال کی یادیں تازہ کرتے۔عالم صاحب نے روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ جسمانی تیاری کے لئے مارگلہ کی پہاڑیوں پر ٹریکنگ جاری رکھی ہوئی تھی۔مقررہ وقت پر ہم عالم صاحب کو لئے پشاور پار پہنچے جہاں گلبدین حکمت یار نے ہمارا استقبال کیا۔عالم صاحب کو اپنے ذاتی دفاع کے لئے دورانِ جہاد مالِ غنیمت سے حاصل کردہ روسی پستول تحفتاََ پیش کیا۔حزب کی میزبانی میں ان کے لئے برفانی لباس کا اہتمام کیا گیا۔الوداعی مصافحہ ہوا۔افغانستان کی بلندیوں کی سمت سفر کے آغاز پر ایم ایم عالم کے چہرے پر نورانی چمک ،انوکھی سرشاری کی ایک لہر نمایاں تھی۔جس نے 65ءکے معرکوں کی یاد ہمارے لئے تازہ کردی۔اقبالؒ کا یہ شاہین پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کرنے کا خواب پورا کرنے چل دیا! ا گرچہ یہ داستان نامکمل ہے اور ان سے آخری دم تک وابستگی کی بنا پر ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے،اللہ کرے میں یہ قرض چکا سکوں۔ اب وہ قومی ہیرو آسودہ خاک ہے اپنی امیدیں آرزوئیں تمنائیں لئے بہ زبانِ اقبالؒ متاعِ فقیر لئے کہ رہا ہے:
    مرے قافلے میں لٹادے اسے
    لٹا دے ٹھکانے لگادے اسے!
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    جواب: 1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

    ان کی وفات کی خبر یہاں دیکھیں ،
    http://www.urduvoa.com/content/pakis...d/1623494.html

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  5. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    جواب: 1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

    اس نامور ہیرو کی تدفین فوجی اعزاز کے ساتھ کی گئی ،

    http://donpk.com/all-about-pakistan/m-m-alam-death-anniversary-is-observed-today

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (12-04-2014),نگار (12-04-2014)

  7. #5
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: 1965 کے ہیرو ایم ایم عالم کے لئے دعا

    انا للہ و انا الیہ راجعون

    اللہ پاک ان کو جنت میں عالی مقام نصیب کرے

    آمین ثمہ آمین

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے نگار کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (12-04-2014),بےباک (12-04-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University