نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: پی ٹی آئی : میڈیا کی خواتین ورکرز پر حملہ

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    پی ٹی آئی : میڈیا کی خواتین ورکرز پر حملہ

    تاریخ: 13 دسمبر 2014
    پی ٹی آئی : میڈیا کی خواتین ورکرز پر حملہ
    تحریر: سید انور محمود
    عمران خان کے ایک عرصئے سے جیو چینل کے مالک میر شکیل الرحمان کے ساتھ اختلافات چل رہے ہیں۔ عمران خان نے جیو چینل کا بایئکاٹ کیا ہوا ہے، یہ عمران خان کا حق ہے، لیکن اُنکی سیاسی مصروفیات دھرنے، جلسے جلوس کی رپورٹ کرنا ہر چینل کی طرح جیو چینل کا بھی حق ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکر آئے دن کسی نہ کسی چینل کے ورکروں کے ساتھ بدتمیزی کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکروں کو میڈیا پرسن اور خاصکر خواتین ورکرز کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا حق کس نے دیاہے؟ ذیل میں دو خبریں ہیں جو جیو نیوز سے متعلق ہیں لیکن یہ شکایت دوسرئے میڈیا پرسن جن میں خواتین بھی شامل ہیں اُنکو بھی ہیں، یہ خبریں سیاسی طور پر کم از کم پی ٹی آئی کےلیے نقصان دہ ہیں۔ عمران خان اور دوسری پارٹی قیادت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    pti-attack-on-GEO_c_12-12-2014_168521_l.jpg
    پی ٹی آئی کارکنوں کارہنماؤں کے وعدے بھول کر پھر جیو نیوز پر حملہ
    کراچی بارہ دسمبر( روزنامہ جنگ) :تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے ایک بار پھر ٹیم جیو کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی،کسی دور دراز علاقے میں نہیں بلکہ کراچی کی مشہور شاہراہ فیصل پر جہاں خود کو پڑھا لکھا کہنے والوں نے دکھایا کہ وہ کتنے تعلیم اور تربیت یافتہ ہیں۔پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے جیو نیوز کو اپنی پست ذہنیت کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا دوپہر کو جب سینئر اینکر مسعود رضا کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے گھیر کر انہیں رپورٹنگ سے روکنے کی کوشش کی۔مسعود رضا اس ساری صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے،اس وقت بھی انہوں نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے جب کارکنوں نے زبردستی پارٹی مفلر اور کیپ پہنائی۔ مسعود کے ماتھے پر شکن نہ آئی۔مسعود رضا نے تو اپنے عمل سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا، لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کوئی سبق حاصل نہ کیا۔ شام کو ایک بار پھر اپنی پست ذہنیت کا مظاہرہ اس وقت کیا جب جیو نیوز کی خاتون صحافی سدرہ ڈار عمران خان کی تقریر کے بعد رپورٹنگ کررہی تھیں،پی ٹی آئی ورکرز پر مشتمل مجمع نے جیو نیوز کی ڈی ایس این جی وین کو گھیر کر شور شرابہ اور ہنگامہ شروع کردیا، خاتون صحافی کو ہراساں کرنے کے اس شرمناک ایڈونچر میں پی ٹی آئی کی خواتین کارکن بھی اپنے ساتھیوں سے آگے بڑھنے میں کسی طور کم نہ رہیں۔ جب نعرے بازی اور شور ہنگامہ بھی حوصلے پست نہ کرسکا، تو پتھر مارے گئے، جوتے دکھائے گئے،مسعود رضا اور سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کی گفتگو کے دوران ٹہنیاں دونوں کی جانب پھینکی گئیں۔ اخلاقیات کس چڑیا کا نام ہے؟خواتین کا احترام کیا ہوتاہے؟تمیز کس بلا کو کہتے ہیں؟تحریک انصاف کے کارکنوں کی بلاجانے۔جیو نیوز کی رپورٹر عمیمہ ملک کو بھی ایسی ہی اذیت ناک صورت حال سے گزرنا پڑا، جب پی ٹی آئی کے سلجھے ہوئے کارکنوں نے نہ صرف وین پر حملہ کرنے کی کوشش کی بلکہ مغلضات بکتے ہوئے اپنی سیاسی اور گھریلو تربیت کو بھی آشکار کیا۔ نجی چینل کی صحافی غریدہ فاروقی نے اس صورت حال میں خاتون رپورٹر کو بچانے کی کوشش کی۔ کیا یہ ہے وہ نیا پاکستان جو تحریک انصاف بنانا چاہتی ہے، جہاں بے صبری، عدم برداشت،بدتہذیبی آپ کی پالیسی ہوگی، جہاں اختلاف دلیل کے بجائے گالیوں سے کیا جائےگا۔خان صاحب جب آپ اپنے کارکنوں کی زبانیں نہیں سنبھال سکتے تو ملک کو خاک سنبھالیں گے؟ یہ ہے آپ کا پڑھا لکھا ووٹر؟

    news-1418047754-5019.jpg
    فیصل آباد:پی ٹی آئی کارکنوں کی جیو کی اینکرماریہ میمن سے بدتمیزی، کیمرہ مین پر تشدد
    فیصل آباد آٹھ دسمبر ( قدرت نیوز) : فیصل آباد میں سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کی رہائش گاہ پر تحریک انصاف کے احتجاج کی کوریج کیلئے پہنچنے والی جیونیوز کی اینکر پرسن ماریہ میمن سے بدتمیزی کی ، کیمرہ مین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیااور ڈی ایس این جی وین پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے ہلہ بول دیا اور انہیں کوریج سے روکنے کی کوشش کی۔ رانا ثنا اللہ کی رہائش گاہ سے چند گز کے فاصلے پر تحریک انصاف کے کارکنوں نے جیونیوزکی ڈی ایس این جی کوگھیرےمیں لےلیا،جیو نیوز کی اینکر پرسن ماریہ میمن کو ہراساں کیا ان پر پانی پھینکااور کیمرہ مین پر ڈنڈوں برسائے اور بوتلیں پھینکیں۔ اس تشدد سے کیمرہ مین زخمی ہوگیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے جیو نیوز کی ڈی ایس این جی پر ڈنڈے برسائے اس پر لگی جیو نیوز کی پرنٹڈ شیٹ کھرچ کر اتار ڈالی اور اس پر رنگ سے مختلف نعرے تحریک کردیئے۔
    سید انور محمود

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (12-13-2014),عبادت (12-17-2014),تانیہ (12-15-2014)

  3. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    754
    شکریہ
    148
    74 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    جواب: پی ٹی آئی : میڈیا کی خواتین ورکرز پر حملہ

    مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اب بھی پی ٹی آئی کے بہت ہی سنیر ممبر سینہ چوڑا کر کے بولتے ہیں
    یہ ردے عمل ہے
    شرم آنی چاہیے عمران خان کو مگر شرم تو اس کے اندر ہے ہی نہیں
    عورتوں کے ساتھ بدتمیزی دھرنے کے پہلے دن سے جاری ہے
    مگر شرم وحیا نام کی کوئی چیز پی ٹی آئی میں نہیں ہے
    گر نہیں مجھ کو میسر اب تیری محفل تو کیا
    کیا یہ کم ہے اب بھی تیرا دوست کہلاتا ہوں


آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University