نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

  1. #1
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

    مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

    مجبور کہ ہونٹوں پہ سوالات کی مانند


    دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے

    سیلاب سے برباد مکانات کی مانند


    میں ان میں بھٹکے ہوئے جگنو کی طرح ہوں

    اس شخص کی آنکھیں ہیں کسی رات کی مانند


    دل روز سجاتا ہوں میں دلہن کی طرح سے

    غم روز چلے آتے ہیں بارات کی مانند


    اب یہ بھی نہیں یاد کہ کیا نام تھا اس کا

    جس شخص کو مانگا تھا مناجات کی مانند


    کس درجہ مقدس ہے تیرے قرب کی خواہش

    معصوم سے بچے کے خیالات کی مانند


    اس شخص سے ملنا محسن میرا ممکن ہی نہیں ہے

    میں پیاس کا صحرا ہوں وہ برسات کی مانند

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے نگار کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (01-15-2015),بےباک (01-04-2015),حسین (01-02-2015)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: مقروض کہ بگڑے ہوئے حالات کی مانند

    دل کا تیری چاہت میں عجب حال ہوا ہے

    سیلاب سے برباد مکانات کی مانند

    بہت خوب،،، شاندار شاعری ۔ محسن نقوی صاحب کا بے مثال کلام
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University